لت پت

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - آلودہ، لتھڑا ہوا، شرابور، سنا ہوا۔ "جب وہ تلیاں کے مقابلے کے لیے اکھاڑے میں اترتا اس کا جسم تیل سے لت پت لشکارے مار رہا ہوتا۔"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، اپریل، ٣٤ ) ٢ - [ مجازا ]  ملوث، ماخوذ۔ "میں انکار نہیں کرتی کہ مسلمان عورتوں کا گروہ اس الزام میں لت پت ہے۔"      ( ١٩٤١ء، قریب ہستی، ١٣ ) ٣ - [ مجازا ]  صاحب قراش، ایسا بیمار جو اٹھ نہ سکے، خراب حال۔ "ابھی خدا خدا کر کے مرض کو سکون ہوا ہے، ایسا نہ ہو پھر لت پت ہو جائیں۔"      ( ١٩٢١ء، خونی شہزادہ، ١١٣ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'لت' کے ساتھ 'پت' بطور تابع مہمل لگانے سے مرکب 'لت پت' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٧٢ء کو "کلیات شاہی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آلودہ، لتھڑا ہوا، شرابور، سنا ہوا۔ "جب وہ تلیاں کے مقابلے کے لیے اکھاڑے میں اترتا اس کا جسم تیل سے لت پت لشکارے مار رہا ہوتا۔"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، اپریل، ٣٤ ) ٢ - [ مجازا ]  ملوث، ماخوذ۔ "میں انکار نہیں کرتی کہ مسلمان عورتوں کا گروہ اس الزام میں لت پت ہے۔"      ( ١٩٤١ء، قریب ہستی، ١٣ ) ٣ - [ مجازا ]  صاحب قراش، ایسا بیمار جو اٹھ نہ سکے، خراب حال۔ "ابھی خدا خدا کر کے مرض کو سکون ہوا ہے، ایسا نہ ہو پھر لت پت ہو جائیں۔"      ( ١٩٢١ء، خونی شہزادہ، ١١٣ )